نور دے کر، یاشفیقؒ و مشفقِ من، خواب کو

نور دے کر، یاشفیقؒ و مشفقِ من، خواب کو

چین کچھ تو بخش دیجے دیدۂ بے تاب کو

 

قربتِ سرکارِ دو عالم ﷺ میں رہ کر پائی ہے

آپ نے وہ شان جس پر رشک ہو اقطاب کو

 

معرفت کی سیر میں اس طرح خود آگے بڑھے

کر دیا پیچھے سفر میں شیخ کو اور شاب کو

 

گو، رہا لاغر جسد، پر روح تھی اتنی قوی

ہیچ جانا معرفت کے بحر میں گرداب کو

 

معرفت کی راہ میں بھی آپ کی خاطر ملی

نورِ عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے روشنی ہر باب کو

 

عشقِ شاہِ بحر و بر کا روح پر ٹھپہ لگا

جس نے روشن کر دیا عشاق کے القاب کو

 

سامنے جالی کے آنے کی کبھی کوشش نہ کی

یوں رکھا دہلیزِ سرور ﷺ کے ادب آداب کو

 

آپ کی پاکیزہ سیرت سے ملا ہم کو سبق

کس طرح رکھتے ہیں قائم موتیوں کی آب کو

 

التماس اک بار پھر کرتا ہے، قلبِ ناصبور!

روئے انور کی جھلک مل جائے میرے خواب کو

 

کاش میری منقبت گوئی بھی آ جائے پسند

یاں رسول اللہ ﷺ کو، واں خالقِ توَّاب کو

 

نسبتِ حضرت شفیقؔ ایسی ملی مجھ کو عزیزؔ

رشک کرتے دیکھتا ہوں اب کئی احباب کو

 

منقبت حضرت شفیق الملت،قاضی شفیق احمدفاروقی مدنی رحمۃ اللہ علیہ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ادراک تھا امام کو کیا ہے مقامِ عشق
معین دین و عطائے رسول ہیں خواجہ
بیاں کب ہو کسی سے مرتبہ صِدِّیْقِ اَکْبَرْ کا
پیاس کا پودا لگایا حکمتِ شبیرؑ نے
آقاﷺ جو نہیں تھے تو امانت بھی نہیں تھی
دشت ہے کل جہاں سائباں آپ صلی اللہ علیک وسلم ہیں
اَتِّباعِ سیدالکونین ﷺ کے فیضان سے
دعوے جو میں کرتا ہوں سرکار ﷺ کی اُلفت میں
جذبات ڈھل رہے ہیں یوں شاعری کے فن میں
اپنے گرد و پیش کے ماحول کو بہتر بنا