نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے

نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے

پھر اسی نور کو محبوب بنایا رب نے

 

ان کی ہر بات میں رکھ رکھ کے محبت کی مٹھاس

پیکرِ خُلق کا دیدار کرایا رب نے

 

انبیا جب تیرے دیدار کو بے تاب ہوئے

پھر امامت کو سرِ عرش بلایا رب نے

 

پیکر حسن میں سب خوبیاں اپنی بھر کر

تجھ کو قرآن کی صورت میں بنایا رب نے

 

تیری سیرت کی زمانے سے گواہی لینے

دیکھنے والی نگاہوں کو دکھایا رب نے

 

اپنی قدرت کو دو عالم پہ اجاگر کرنے

ناز تخلیق کو پھر پاس بلایا رب نے

 

اور بھی بیش بہا نعمتیں دی ہیں لیکن

دے کے محبوب یہ احسان جتایا رب نے

 

شکر اس ذات کا جتنا بھی کروں کم ہے آسؔ

مجھ کو بھی نعت کا انداز سکھایا رب نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ
مصیبت میں پڑے ہیں ، اَنْتَ مَوْلٰنَا
سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
لب پہ میرے جو یوں سج گئی نعت ہے
کملی والے میں قرباں تری شان پر
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد