اردوئے معلیٰ

نور و حضور کا یہ عجب اہتمام ہے

نور و حضور کا یہ عجب اہتمام ہے

آنکھوں کے سامنے در عالی مقام ہے

 

حاضر ہوں بارگاہ پیمبر میں آج میں

ٹھہرا ہوا سا سلسلہ صبح و شام ہے

 

میں آ گیا ہوں روضہ اقدس کے سامنے

اے دل ذرا ٹھہر کہ ادب کا مقام ہے

 

دربار نور اور یہ مجھ سا گناہگار

حیراں ہے آنکھ، لب پہ درود و سلام ہے

 

آنکھوں سے چشمہ دل بیتاب ابل پڑا

تسنیم و سلسبیل کا طرز خرام ہے

 

دل پر ہے اُس کا جلوہ دربار نور پاش

ہاتھوں میں رخش وقت کی زرّیں زمام ہے

 

ہے اصل آرزو در اقدس کے صبح و شام

باقی جو ہے تمام، تمنائے خام ہے

 

یہ کیف و کم ،یہ نور و حضور اور یہ سوز و ساز

ہر لمحہ جمال کا حاصل دوام ہے

 

خالد! ریاض جنہ کی ہر ساعت جمیل

صحن دل و نگاہ میں محو خرام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ