نوعِ اِنساں کی بہتری کے لیے

نوعِ اِنساں کی بہتری کے لیے

آپ آئے ہیں آشتی کے لیے

 

آپ کی زندگی کا ہر لمحہ

راہِ بخشش ہے آدمی کے لیے

 

سارے عالم، نظامِ ارض و سما

یہ بنے ہیں سب آپ ہی کے لیے

 

منتظر ہیں فقط بُلاوے کے

ہم ہیں بے چین حاضری کے لیے

 

جام اِدراک کے پلا دیجے

اب رضاؔ کو بھی آگہی کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مر بھی جائے تو تری بات سے جی اُٹھتا ہے
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
شبِ تمنا کے رتجگے میں نئی سحر کا نصاب لکھا
حُبِ احمدﷺ کا صلہ بولتا ہے
جی جگر ان پر لٹاتے آئے ہیں
جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں
سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے
آپﷺ آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
تیرا نادان آقا کوئی اور ہے
جب ان کے روضۂ اقدس کو بند آنکھوں سے تکتے ہیں