نومبر چل رہا

نومبر چل رہا ہے
خنکی پیہم بڑھ رہی ہے
ساتھ ہی اسکا رویہ سرد ہوتا جارہا ہے اور مجھ کو خدشہ ہے
ان برف جیسے موسموں کی ٹھنڈمیں
میری سسکتی چاہتوں کا
انت ہو جائے گا۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہی بالوں میں دو چُٹیاں، وہی اک ہاتھ میں اِملی
گِھر گِھر آئے پگلے بادل ، برسی میگھا سانوری
دید شنید
راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہے
میرے سارے موسم تم ہو
میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا
آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر
شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا
فیکون
فروغ فرخ زاد کے نام

اشتہارات