نومبر چل رہا

نومبر چل رہا ہے
خنکی پیہم بڑھ رہی ہے
ساتھ ہی اسکا رویہ سرد ہوتا جارہا ہے اور مجھ کو خدشہ ہے
ان برف جیسے موسموں کی ٹھنڈمیں
میری سسکتی چاہتوں کا
انت ہو جائے گا۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سبھی سرگوشیاں جب ھار کے دم توڑ دیتی ھیں
تم کیا جانو!
نذرانۂ عقیدت بانی جماعتِ اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ
میوزیم
تجھے خود سے نکالا ہے
مدحت ہو تری کیسے کہ دشوار بیاں ہے
جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں
موت کا سر پہ تاج لینا ہے
ن‘‘(نون)’’
دل جلتا ہے