اردوئے معلیٰ

نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا

نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا

ہزار مشکل سے بارے رخ پر سے اُس نے الٹا نقاب آدھا

خدا کی قدرت ہے ورنہ آزادؔ میرا اور ان بتوں کا جھگڑا

نہ ہو گا فیصل تمام دن میں مگر بروزِ حساب آدھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ