نُورِ سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

نُورِ سرکار‏ نے ظلمت کا بھرم توڑ دیا

کفر کافور ہوا شِرک نے دَم توڑ دیا

 

سوزِ غم ختم کیا سازِ سِتم توڑ دیا

آپ نے سلسلہء رنج والم توڑ دیا

 

نعرہ زن رِند بڑھے ساقیِ محشر کی طرف

جامِ کوثر جو مِلا ساغرِ جم توڑ دیا

 

دستِ قدرت! ترے اِس حسنِ نگارش پہ نثار

نام وہ لوح پر لکّھا کہ قلم توڑ دیا

 

ڈُوبنے دی نہ محمّد ‏ نے ہماری کشتی

زور طوفاں کا بیک چشمِ کرم توڑ دیا

 

نہ رہا کفر کا پِندار، نہ غَرّہ نہ غُرور

ایک ہی ضرب میں سب جاہ و حشم توڑ دیا

 

شدّتِ ظلم ہُوئی خَُلقِ مُحمد ‏ سے فنا

جتنے شدّاد تھے ہر ایک نے دَم توڑ دیا

 

تھا برہمن کو بہت رشتہء زُنّار پہ ناز

آپ سے سلسلہ جوڑا، تو صنم توڑ دیا

 

جب مِرے سامنے آیا کوئی الحاد کا جام

کہہ کے بے ساختہ یا شاہِؐ اُمَم! ”توڑ دیا“

 

تُم پر اللّٰه کے الطاف نصؒیرؔ! ایسے ہیں

نعت اِس شان سے لکّھی کہ قلم توڑ دیا ۔

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی