اردوئے معلیٰ

Search

نُور یا نُور کا ہالہ ہے مواجہ تیرا ؟

حدِ ادراک سے بالا ہے مواجہ تیرا

 

خُلد کے روضہ سے نکلیں تو ذرا سا آگے

بس اُجالا ہی اُجالا ہے مواجہ تیرا

 

زائرِ خستہ، پسِ تابِ سخن ، عجز بہ لب

اور بخشش کا حوالہ ہے مواجہ تیرا

 

حیرتوں ، حُرمتوں والی ہے تری ارضِ کرم

طلعتوں ، نکہتوں والا مواجہ تیرا

 

ایک لمحے میں زمانوں کے سفر کا حاصل

کیا حضوری میں نرالا ہے مواجہ تیرا

 

کس لطافت میں تراشی گئی طلعت اس کی

رب نے کس نُور میں ڈھالا ہے مواجہ تیرا

 

شوق میں ساعتِ احساسِ طرَب کا محور

حُسن میں نقشِ دو بالا ہے مواجہ تیرا

 

آنکھ تو محوِ تماشا نہ ہُوئی دید کے بعد

دل نے کس طَور سنبھالا ہے مواجہ تیرا

 

سبز ہیں اِس کے پس و پیش کے منظر سارے

درمیاں میں گُلِ لالہ ہے مواجہ تیرا

 

کشتِ مقصودؔ تر و تازہ رہے گی ہر دَم

سامنے خیر کا جھالا ہے مواجہ تیرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ