اردوئے معلیٰ

Search

نکلی نسیم صبح جو ان کے دیار سے

گلشن تمام لگنے لگے مشک بار سے

 

جانے لگیں جو قافلے آقا کے شہر کو

پوچھے تو کوئی حال دل بے قرار سے

 

لب پر نبی نبی ہے تو دل میں نبی نبی

نکلے یہی نفس کے مرے تار تار سے

 

قبضہ مرے نبی کا ہے کل کائنات پر

باہر نہیں ہے ایک بھی شے اختیار سے

 

آواز آ رہی تھی صلوٰۃ و سلام کی

شاہد علی ہیں، گزرے وہ جب کوہسار سے

 

صل علیٰ کا نغمہ ہے ہر موج بحر میں

آئے صدا درود کی ہر آبشار سے

 

تخلیق بے مثال ہے اخلاق لاجواب

ہیں منفرد وہ خلق میں ہر اعتبار سے

 

جب بھی غلام ان کا غموں سے ہوا نڈھال

ان کے کرم نے بڑھ کے سنبھالا ہے پیار سے

 

چاہے جو اپنی گردش ایام خیریت

الجھے نہ مصطفےٰ کے کسی جاں نثار سے

 

دیوانۂ رسول کو کیا فکر حشر ہو

جائے گا وہ وہاں بھی بڑے افتخار سے

 

جانے نہ پائے ہاتھ سے دامان مصطفےٰ

اے نورؔ یہ دعا کرو پرور دگار سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ