اردوئے معلیٰ

نکہتوں کے دوش پر ہے موجۂ گُلزارِ میم

نکہتوں کے دوش پر ہے موجۂ گُلزارِ میم

قریۂ احساس میں ہے تیز رَو رہوارِ میم

 

ابجدَی تعبیر کرتی ہے طوافِ روشنی

شیشۂ دل پر ہے عکسِ مطلعِ دیدارِ میم

 

آ! تجھے بھی گرمیٔ خورشیدِ محشر، خیر دوں

ساتھ لایا ہُوں مَیں اپنے سایۂ دیوارِ میم

 

بے سبب اونچا نہیں ہے قد مرے اشعار کا

باندھ رکھی ہے سخن نے رفعتِ دستارِ میم

 

صورتِ قرطاسِ اخضر آ گرا میزان میں

اور پھر بھاری ہُوئی اعمال پر مقدارِ میم

 

نقش ہے بس ایک ہی تقدیر لوحِ وقت پر

راستے اور منزلیں ہیں مرضیٔ پرکارِ میم

 

لام تو مابین میں بس قاصدِ مکتوب ہے

ہے ازل سے تا ابد حرفِ اَلِف اسرارِ میم

 

منصبِ محمود پر ہو گا تعیّن شان کا

باقی ساری عظمتیں ہیں مہبطِ اظہارِ میم

 

خود بخود تصویر کرتا ہے قلم احساس کو

صورتِ مدحت لگی ہے رونقِ بازارِ میم

 

تندیٔ بادِ مخالف سے نہیں خوفِ زیاں

کشتیٔ جاں تھامتا ہے قطرئہ اَبحارِ میم

 

مطلعِ لولاک پر مقصودؔ حیرت نقش ہے

خَلق کا سارا سفر ہے حاصلِ آثارِ میم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ