اردوئے معلیٰ

نگاہِ رحمتِ حق میرے دل پہ ہوتی جاتی ہے

مجھے محویتِ نعتِ پیمبر ہوتی جاتی ہے

 

بہ مژگاں کثرتِ آبِ مقطر ہوتی جاتی ہے

متاعِ خونِ دل اس پر نچھاور ہوتی جاتی ہے

 

وہ صورت نقشِ دل اللہ اکبر ہوتی جاتی ہے

فضائے قلب رنگین و معطر ہوتی جاتی ہے

 

ترے دیدار کی ساعت قریں تر ہوتی جاتی ہے

مری چشمِ تمنا اور مضطر ہوتی جاتی ہے

 

بیادِ شاہِ خوباں آنکھ اب تر ہوتی جاتی ہے

سکوں آغوش میری جانِ مضطر ہوتی جاتی ہے

 

تمنا دیدِ طیبہ کی فزوں تر ہوتی جاتی ہے

مضاعف سرخوشی اک دل کے اندر ہوتی جاتی ہے

 

حدیثِ عشق جیسے جیسے ازبر ہوتی جاتی ہے

یہ جانِ مضمحل پہلے سے بہتر ہوتی جاتی ہے

 

نہ دیکھوں جب تک ان آنکھوں سے ان کا روضۂ انور

خلش نادیدہ اک دل میں برابر ہوتی جاتی ہے

 

اٹا جاتا ہے سر گرد و غبارِ راہِ طیبہ سے

مری خوش طالعی رشکِ سکندر ہوتی جاتی ہے

 

پہنچ کر بارگاہِ قدس میں اتنا تو کہہ دوں گا

شہا امت کی حالت اب زبوں تر ہوتی جاتی ہے

 

قدم زن پوری امت حیف سوئے قعرِ پستی ہے

کہ اخلاقاً وہ غیروں سے بھی بدتر ہوتی جاتی ہے

 

کرم فرمائیے اس پر نظر فرمائیے اپنی

دو روزہ زندگی اب اس پہ دوبھر ہوتی جاتی ہے

 

سوئے ام القریٰ اڑ جاؤں گا گیارہ ستمبر کو

شبِ ہجراں کی یہ منزل بھی اب سر ہوتی جاتی ہے

 

حرم سے چل دیا اس جلوہ گاہِ ناز کی جانب

ہے خوش طبعِ نظرؔ آپے سے باہر ہوتی جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات