نگاہِ شوق کو دیتی ضیا روضے کی جالی ہے

 

نگاہِ شوق کو دیتی ضیا روضے کی جالی ہے

مدینہ مرکزِ مدحت ہے اس کی شان عالی ہے

 

کھڑا ہے ہاتھ باندھے سرخمیدہ عرضِ دل لے کر

کہ شہرِ ہجر سے آیا ہوا یہ اک سوالی ہے

 

مدینہ سے ہی تو منسوب ہے یہ سر زمیں میری

اسی کا فیض ہے چاروں طرف پرچم ہلالی ہے

 

ثنا گوئی بفیضِ مصطفی ہم کو میسّر ہے

نہ ہم میں طرزِ مدحت ہے نہ ہی سوزِ بلالی ہے

 

ثنائے مصطفی نے لاج رکھی دو جہانوں میں

کہ جو آقا ہے میرا، دو جہاں کا وہ ہی والی ہے

 

غلامِ اہلِ بیتِ پاک ہیں ماں باپ بھی میرے

جنہوں نے حبِ آلِ پاک میرے دل میں ڈالی ہے

 

چھپا لیجئے مجھے دامانِ رحمت میں مرے آقا

مرا اعمال نامہ خام ہے دامن بھی خالی ہے

 

بروزِ حشر آنکھوں سے رواں ہے آب شار مدح

عجب جاں سوز منظرؔ آج تیری خستہ حالی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ