اردوئے معلیٰ

نگاہِ فکر روشن ہے طبیعت بھی منور ہے

میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو دوعالم سے بہتر ہے

 

شفیعِ روزِ محشر ابجدِ شبیر و شبر ہے

فضیلت جس کی درکِ حضرتِ عیسی سے باہر ہے

 

حمید ہے زورِ مدحِ مصطفی کہ بادِ سر سر ہے

ترا ہر لفظ جیسے کہ کوئی جبریل کا پر ہے

 

میں کیوں جاؤں مدینہ میرا پیکر خود مدینہ ہے

کہ ان کا روضہء اقدس ہی میرے دل کے اندر ہے

 

عیاں ہونے کو ہو شق القمر کا معجزہ ٹھہرو

مجھے ہے شوق میں دیکھو میری فطرت قلندر ہے

 

خوشا قسمت نویدِ دینِ فطرت کی منادی ہے

نزولِ مصطفیٰ سب سے بڑا احسانِ داور ہے

 

حمید اس سادگی سے نعتِ پیغمبر لکھی تونے

. تیرے دشمن بھی مانیں گے کہ ہاں تو بھی سخنور ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات