نگاہِ فکر روشن ہے طبیعت بھی منور ہے

نگاہِ فکر روشن ہے طبیعت بھی منور ہے

میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو دوعالم سے بہتر ہے

 

شفیعِ روزِ محشر ابجدِ شبیر و شبر ہے

فضیلت جس کی درکِ حضرتِ عیسی سے باہر ہے

 

حمید ہے زورِ مدحِ مصطفی کہ بادِ سر سر ہے

ترا ہر لفظ جیسے کہ کوئی جبریل کا پر ہے

 

میں کیوں جاؤں مدینہ میرا پیکر خود مدینہ ہے

کہ ان کا روضہء اقدس ہی میرے دل کے اندر ہے

 

عیاں ہونے کو ہو شق القمر کا معجزہ ٹھہرو

مجھے ہے شوق میں دیکھو میری فطرت قلندر ہے

 

خوشا قسمت نویدِ دینِ فطرت کی منادی ہے

نزولِ مصطفیٰ سب سے بڑا احسانِ داور ہے

 

حمید اس سادگی سے نعتِ پیغمبر لکھی تونے

. تیرے دشمن بھی مانیں گے کہ ہاں تو بھی سخنور ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زیرِ افلاک نطق آقا کا
حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
ہماری جاں مدینہ ہے، ہمارا دل مدینہ ہے
خدا نے مغفرت کی شرط کیا راحت فزا رکھ دی
محمد مصطفیٰ یعنی خدا کی شان کے صدقے
زندگی شاد کیا کرتی ہے
نعت لکھنی ہے مگر نعت کی تہذیب کے ساتھ
لمحہ لمحہ شمار کرتے ہیں
مدینہ کی بہاروں سے سکونِ قلب مِلتا ہے
ہوں میری باغ و بہار آنکھیں

اشتہارات