نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

 

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں

لیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں

 

ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھنا

ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

 

اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوے

تمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں

 

کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کا

اُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں

 

تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہے

پڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں

 

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضور

تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

 

یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹتا ہے

کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

 

ہماری بگڑی بنی اُن کے اختیار میں ہے

سپرد اُنھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

 

حسنؔ ہے جن کی سخاوت کی دھُوم عالم میں

اُنھیں کے تم بھی ہو اک ریزہ خوار، ہم بھی ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات