اردوئے معلیٰ

نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا

نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا

مرے یقین نے ہر ایک جا خدا دیکھا

 

مرے شعور کو شاداب کر گیا منظر

حرم میں عالم ہستی کا آسرا دیکھا

 

قسم ہے میرے خدا تیری پاک ہستی کی

ترے ہی ذکر سے بندوں کو جھُومتا دیکھا

 

ہر ایک آنکھ میں اشکوں کی کیا روانی تھی

بڑے بڑوں کو ترے در سے مانگتا دیکھا

 

لگا کچھ ایسے کہ جنت میں آ گیا ہوں گلؔ

حرم میں حسن کا منظر جو شام کا دیکھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ