اردوئے معلیٰ

نگاہ چشم قاتل کو نشانہ چاہئے تھا

نشانہ بھی کوئی مجھ سا دوانہ چاہئے تھا

 

گھنے جنگل میں اے برق تپاں کچھ تو بتا دے

جلانے کو مرا ہی آشیانہ چاہئے تھا

 

حقائق تھے پرانے ان سے پردہ کیا اٹھاتا

کہ اہل شہر کو تازہ فسانہ چاہئے تھا

 

تمہاری زلف کی چھاؤں تلے ہم کیوں نہ آتے

بلا کی دھوپ میں اک شامیانہ چاہئے تھا

 

میں اپنی جاں ہتھیلی پر بھلا کیسے نہ رکھتا

اسے اظہار الفت، والہانہ چاہئے تھا

 

چلا ہوں اسکی جانب دامن صد چاک لے کر

مرا حلیہ بھی اسکو عاشقانہ چاہئے تھا

 

تری آغوش الفت کی طرف میں آ چکا ہوں

محبت کرنے والے کو ٹھکانہ چاہئے تھا

 

کسی کی بے وفائی دیکھ کر اب سوچتا ہوں

مجھے اک بار اسکو آزمانا چاہئے تھا

 

دکھائی کیسے دیتا دام صیاد ستمگر

پرند تشنہ لب کو آب و دانہ چاہئے تھا

 

جدائی کے سفر کی ابتدا میں نے ہی کردی

اسے ترک تعلق کا بہانہ چاہئے تھا

 

کتاب حسن جاناں ایک دم کیسے سمجھتا

سمجھنے کو جسے نوری زمانہ چاہئے تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات