اردوئے معلیٰ

نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں

ہر ایک قلب کی حاجت، حضور جانتے ہیں

 

ہم ان کو دیکھیں گے مرقد میں نقد جاں دے کر

ہمارے عشق کی قیمت حضور جانتے ہیں

 

کہیں جو عشق میں ان کے قبول کرتے ہیں

کہ عاصیوں کی عقیدت حضور جانتے ہیں

 

فراقِ شہ میں جو آنکھوں سے روز بہتے ہیں

ان آنسوؤں کی حقیقت حضور جانتے ہیں

 

بسی ہوئی ہے محبت جو قلبِ زاہدؔؔ میں

یہ ہے خدا کی مشیت ، حضور جانتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات