اردوئے معلیٰ

نہیں مطلب نہیں اس کی نہیں کا

نہیں مطلب نہیں اس کی نہیں کا

یہ دل سمجھا نہیں پاگل کہیں کا

 

ستارے ماند ہیں سب تیرے ہوتے

کہ تُو ہے چاند ، وہ بھی چودھویں کا

 

میں روتا ہوں تو روتے ہیں دروبام

مکاں بھی دُکھ سمجھتا ہے مکیں کا

 

یہ کیسے موڑ پر چھوڑا ہے تو نے

مجھے چھوڑا نہیں تو نے کہیں کا

 

کیے سجدے کچھ اتنے اُس کے در پر

نشاں سا پڑ گیا میری جبیں کا

 

مری گردن تک آ پہنچا تو جانا

مرا تو ہاتھ ہے سانپ آستیں کا

 

لباسِ سرخ میں ملبوس لڑکی

چھلکتا جام حُسنِ احمریں کا

 

نہ جانے بات کیا تھی اُس گلی میں

کہ ہو کے رہ گیا فارس وہیں کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ