نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

 

نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

نبی کے مثل جہاں میں جو ہے کوئی تو بتا

 

خدا کا عرشِ معلی سجا ہے جنت سے

جہاں کا حسن مدینے میں گنبد خضریٰ

 

میں جانتا ہوں دیا جو مجھے خدا نے دیا

درِ رسول سے مومن کو کیا نہیں ہے ملا

 

دلوں میں عشق خدا سے دئیے ہوئے روشن

جہاں کے بزم میں جب نور مصطفیٰؐ دیکھا

 

زمیں پہ جشن میں میلاد مصطفیٰؐ کا سماں

فلک پہ چاند ستاروں کو جھومتا دیکھا

 

زمین نصیب کہاں ہو تجھے کبھی ایسا

نبی سے عشق میں جو تھا حسین کا سجدہ

 

نبی کے دین میں چاہوں بلال ہو جاؤں

نبی کے عشق میں واحد غلام تھا دیکھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تاج کی ہے طلب اور نہ زر چاہئے
ہر مرض کی دوا وردِ صلِ علیٰ مدحتِ مصطفیٰ
بولنا سیکھا تو یہ بات کہی
لبوں سے اسمِ محمد جدا نہیں ہوگا
جوطلبگار مدینے میں چلا آتا ہے
عالم تمام عکس جمال محمدؐ است
جہاں نوشابۂ لطف و کرم رکھا ہوا ہے
حضور کی جستجو کریں گے
عطا ہوئے ہیں رفیع جذبے
شــیوہ عـــفو ہــو ، پیـــمانہ سالاری ہـــو

اشتہارات