نہیں ہے اپنی تباہی کا کچھ ملال مجھے

نہیں ہے اپنی تباہی کا کچھ ملال مجھے

تو کیا دکھائی نہیں دیتا اپنا حال مجھے ؟

 

مجھے اُداسی کا سرطان تھا سو ڈرتے تھے لوگ

سو آپ کرنا پڑی اپنی دیکھ بھال مجھے

 

تُو ایک نخلِ جواں ، تیرا بوڑھا مالی مَیں

ترے عروج پہ بخشا گیا زوال مجھے

 

سخی! میں کسی اور در پہ جا نہیں سکتا

ترے ہی در کا بھکاری ہوں ، لاکھ ٹال مجھے

 

ہنر ورو! مرے فن پر کرو گے کیا تحقیق

سوائے غم نہیں حاصل کوئی کمال مجھے

 

میں تیری راہ میں بیٹھا ہوں اُٹھ نہ جاؤں کہیں

خدا کے واسطے کر ڈال پائمال مجھے

 

لباسِ عمر مرے جسم و جاں پہ تنگ رہا

کبھی جچے ہی نہیں میرے ماہ و سال مجھے

 

میں آدمی ہوں فرشتہ نہیں مگر ترے بعد

کبھی نہ آیا کسی اور کا خیال مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شامی بچوں کا نوحہ
ہمارا بخت ہی ایسا کرخت نکلے گا
ہر مسافر ہے سہارے تیرے
اب یہاں سب کو محبت ھے، میاں
اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
تجھ میں اور مجھ میں وہ اب رازو نیاز آئے کہاں؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد سوغات تھی اداسی کی
کوئی بھیک رُوپ سُروپ کی، کوئی صدقہ حسن و جمال کا