نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا ثنا نبیؐ کی جو لکھے کامل

ہے نعت گوئی میں میری نیت رضائے خالق ہو مجھ کو حاصل

 

کمال و خوبی ہر ایک لے کے خمیرِ فطرت میں کر کے داخل

خدا نے پیدا کیا وہ ہادی کہ جس پہ کرنا تھا دین کامل

 

بھٹک چکا تھا جو دینِ حق سے بچھڑ چکا تھا جو اپنے رب سے

شہِ ہدیٰ کے کرم کے صدقے بشر ہوا بازیابِ منزل

 

ہو مسئلہ پیچدار کوئی ہو کوئی مشکل، ہو کوئی عقدہ

اس ایک مصحف سے حل ہوں سارے ہوا جو میرے نبیؐ پہ نازل

 

قلیل مدت میں کر دکھایا جو کام صدیوں نہ ہو سکا تھا

اگرچہ اپنا لہو بہایا اگرچہ گزرے کٹھن مراحل

 

ہزار سر اب اٹھائے باطل نہ حق کو لیکن مٹا سکے گا

نظرؔ جو کھائی تھی اس کے ہاتھوں وہ مستقل ہے شکستِ باطل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ضیائے سدرہ و طوبیٰ و کل جہاں روشن
جس جگہ بے بال و پر جبریل سا شہپر ہوا​
زمیں سے تا بہ فلک ایسا رہنما نہ ملا
مہر ھدی ہے چہرہ گلگوں حضورؐ کا
ہوئے جو مستنیر اس نقشِ پا سے
حَیَّ علٰی خَیر العَمَل
بس قتیلِ لذتِ گفتار ہیں
تجھے مِل گئی اِک خدائی حلیمہ
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
نہیں شعر و سخن میں گو مجھے دعوائے مشاقی

اشتہارات