اردوئے معلیٰ

 

نہیں ہے کوئی ذات پیارے نبی سی​

انھیں رب نے دی شخصیت ہے بڑی سی​

 

گزر گلشنِ نعت سے جب ہے ہوتا​

چٹکتی ہے دل میں خوشی کی کلی سی​

 

وہ خود کیسے ہوں گے! جب ان کی ہے صحبت:​

ابوبکر و فاروق و عثماں ، علی سی(رضی اللہ عنہم اجمعین)​

 

کہاں مجھ سا ناقص ، کہاں ان سا کامل​

ہے ناقص کے دل میں عجب بے کلی سی​

 

میں قابل نہیں نعت لکھنے کے بالکل​

نہ سیرت بھلی سی ، نہ صورت بھلی سی​

 

ارے ”نعت“ چھوڑو بڑا کام ہے یہ​

میں اک ”نظْم“ کہہ نہ سکوں نعت کی سی​

 

اِدھر دل یہ کہتا ہے نعتیں لکھوں میں​

اُدھر عقْل بولے ’’ہیں راہیں کڑی سی‘‘​

 

ندامت کے آنسو سجا تو لیے ہیں​

قلم میں مگر آگئی کپکپی سی​

 

اِدھر نعت لکھ کر اسامہ رکا جب​

اُدھر بن گئی اشک کی اک لڑی سی​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات