نہ آئینے کا بھروسہ نہ اعتبار نظر

نہ آئینے کا بھروسہ نہ اعتبار نظر

جو روبرو ہے مرے کوئی دوسرا ہی نہ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شب سرائے میں پہنچ کر مجھے رخصت دے گا
سید فخرالدین بلے کا تخلیقی معجزہ , سات صدیوں بعد نیا قول ترانہ
فارس اک روز اسی عطر سے مہکے گا وہ شخص
ترے بغیر تو خود عید بھی خدا کی قسم
وہی ماتھا ، وہی آنکھیں ، وہی ہونٹ
کم نگاہی کی معذرت جاناں
ہاتھوں میں نازکی سے سنبھلتی نہیں جو تیغ
اپنی حالت کا خود احساس نہیں ہے مجھ کو
جیسے قیدی کو حوالات میں رکھا جائے
مجھے اس مقام پہ لائی ہے تری بے نیازی کی خو کہ اب

اشتہارات