اردوئے معلیٰ

Search

 

نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

حضور خاک مدینہ خمیدہ ہونا تھا

 

اگر گلوں کو خزاں نا رسیدہ ہونا تھا

کنار خار مدینہ دمیدہ ہونا تھا

 

حضور ان کے خلافِ ادب تھی بے تابی

مری امید تجھے آرمیدہ ہونا تھا

 

نظارہ خاک مدینہ کا اور تیری آنکھ

نہ اس قدر بھی قمر شوخ دیدہ ہونا تھا

 

کنار خاک مدینہ میں راحتیں ملتیں

دل حزیں تجھے اشک چکیدہ ہونا تھا

 

پناہ دامن دشت حرم میں چین آتا

نہ صبر دل کو غزال رمیدہ ہونا تھا

 

یہ کیسے کھلتا کہ ان کے سوا شفیع نہیں

عبث نہ اوروں کے آگے تپیدہ ہونا تھا

 

ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہ کامل کو

سلام ابروئے شہ میں خمیدہ ہونا تھا

 

لاملئن جہنم تھا وعدہ ءِ ازلی

نہ منکروں کا عبث بد عقیدہ ہونا تھا

 

نسیم کیوں نہ شمیم ان کی طیبہ سے لاتی

کہ صبح گل کو گریباں دریدہ ہونا تھا

 

ٹپکتا رنگ جنوں عشق شہ میں ہر گل سے

رگ بہار کو نشتر رسیدہ ہونا تھا

 

بجا تھا عرش خاک مزار پاک کو ناز

کہ تجھ سا عرش نشیں آفریدہ ہونا تھا

 

گزرتے جان سے اک شور ”یا حبیب“ کے ساتھ

فغاں کو نالہ ءِ حلق بریدہ ہونا تھا

 

مرے کریم گنہ زہر ہے مگر آخر

کوئی تو شہد شفاعت چشیدہ ہونا تھا

 

جو سنگ در پہ جبینوں میں تھا مٹنا

تو میری جان شرار جہیدہ ہونا تھا

 

تری قبا کے نہ کیوں نیچے نیچے دامن ہوں

کہ خاکساروں سے یاں کب کشیدہ ہونا تھا

 

رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہ حبیب

تو پیارے قید خودی سے رہیدہ ہونا تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ