اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

نہ ایسا کوئی تھا نہ ہے وہ پیکرِ جمال ہے

 

نہ ایسا کوئی تھا نہ ہے وہ پیکرِ جمال ہے

اُسؐ آفتابِ حسن کو گہن ہے نہ زوال ہے

 

وہ فخرِ انبیاءؐ بھی ہیں، وہ جان دوسراؐ بھی ہیں

حبیبِ کرد گار ہے، عطائے ذُوالجلال ہے

 

مثال ڈھونڈنا نہیں مثال مل نہ پائے گی

ہمارے دل رُبا کا رُوم رُوم بے مثال ہے

 

مقامِ مصطفیٰؐ کی رفعتوں کی کوئی حد بھی ہے؟

جو حل نہ ہو سکا کبھی یہ وہ ادق سوال ہے

 

قرار مل گیا سنہری جالیوں کے سامنے

’’مواجہ‘‘ اور جالیاں مقامِ اِتصال ہے

 

جنہیں درِ نبیؐ ملا اُنہی کو زندگی ملی

درِ نبیؐ ملا نہیں تو زندگی محال ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر موج ہوا زلف پریشانِ محمدؐ
یادِ نبی سے، پہلے سخن باوضو ہوا
قصہء شقِّ قمر یاد آیا​
گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے ۔ پنجابی نعت
میں محمد ﷺ سے جو منسوب ہوا خوب ہوا
اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال
چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے​
ہوں میں جب مستغرقِ کارِ ثنائے آنحضورؐ
نغماتِ ازل بیدار ہوئے پھر بربطِ دل کے تاروں میں
حسیں رنگ بھاروں کا مسکن مدینہ