اردوئے معلیٰ

Search

 

نہ دل پہ بوجھ رہے گا نہ امتحان میں جان

درود پڑھتے رہو،جب تلک ہے جان میں جان

 

یہ کس کانام لیا، روشنی اترنے لگی

یہ کس کاذکر چلا ، پڑگئی زبان میں جان

 

اٹھانا بوجھ کوئی کم نہیں تھا قرآں کا

نہ تھی زمین میں طاقت نہ آسمان میں جان

 

حضور ، حرف تلطف کہ بات بن جائے !

حضور ، بوئے تبسم کہ آئے جان میں جان!

 

کبھی میں نعت پڑھوں اور کبھی سلام سنوں

کبھی دہن میں ہو میرے کبھی ہو کان میں جان

 

خوشا وہ سانس جو آئے نبی کی یاد لیے

خوشا کہ مجھ سے ہورخصت نبی کے دھیان میں جان

 

بس ایک نام سے چلتا ہے کاروبار حیات

بس ایک فرد سے باقی ہے خاندان میں جان

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ