نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے

نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے

نہ اپنوں سے ہے، نہ اغیار سے ہے

شہنشاہ نہ کسی سردار سے ہے

محبت بس مجھے سرکارؐ سے ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آرزو ہے کہ اُنؐ کا گھر دیکھوں
وہی لاریب محبوبِ خدا ہیں
اُنؐ کا ہے کرم صبح و مسا دیکھ رہا ہوں
محبت آپؐ کی ہے قلب و جاں میں
چراغ طُور ہے اُنؐ کی گلی میں
’’غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صدا‘‘
’’ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمّت؟‘‘
’’اُس رضا پر ہو مولا رضائے حق‘‘
’’خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے‘‘
حسن و جمالِ اُسوۂ آقا پہ ہو نظر!

اشتہارات