نہ سوچتے تھے جو دیوار و در بدلنے تک

نہ سوچتے تھے جو دیوار و در بدلنے تک

وہ لوگ ہو گئے تیار گھر بدلنے تک

کمال اس نے کیا اور میں نے حد کر دی

کہ خود بدل گیا اس کی نظر بدلنے تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

چپ چاپ جی رہے ہیں، تماشہ نہیں بنے
وہاں اک موجِ بے حس ہے کہ آنکھیں نم نہیں کرتی
خدا کی عظمتوں کے استعارے
خدائے مہرباں سب کا خدا ہے
خدا سے ملنا چا ہو، بات یہ دل میں بٹھا لو
خدائے مہرباں کو جب پُکارا
مرا وردِ زباں اللہ اکبر
خدا کی ذات وہ سرِ نہاں ہے
دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں
جلال کِبریا ہر سُو عیاں ہے، بہرِ سُو عظمتوں کی داستاں ہے