اردوئے معلیٰ

نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں

نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں

بات یوں بھی نہیں تھی کہنے کی

 

حاتمِ عشق کی حویلی بھی ،

اب کہاں رہ گئی ہے رہنے کی

 

ڈوبنا کون چاہتا ہے مگر؟

اور ہمت نہیں ہے بہنے کی

 

اب بھرم ٹوٹتا ہے ، تو ٹوٹے

بے دلی اب نہیں ہے سہنے کی

 

اور پھر ، تیرگی میں ڈوب گئی

جھلملاہٹ ، تمہارے گہنے کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ