نہ قصر شاہ، نہ دربار کجکلاہ میں ہے

نہ قصر شاہ، نہ دربار کجکلاہ میں ہے

قرارِ جاں مرے آقا کی بارگاہ میں ہے

 

سرورِ دل وہ کسی اور انجمن میں کہاں

جو تاجدار مدینہ کی جلوہ گاہ میں ہے

 

گل و سمن میں نہ مشک ختن میں وہ تاثیر

جو سرزمین مدینہ کی خاک راہ میں ہے

 

کہاں ملے گا کسی اور کی نظر سے مجھے

نشاطِ جاں کا جو سامان اُن کی چاہ میں ہے

 

روا نہیں ہے یہاں امتیازِ رنگ و نسب

ہر ایک خرد و کلاں آپ کی پناہ میں ہے

 

ہوا ہے وردِ زباں جب سے ذکر پیغمبر

سرور و کیف کا عالم دل و نگاہ میں ہے

 

ہر ایک ذرہ یہاں رشک طور ہے خالد

وہ شان میر اُمم کی خرام گاہ میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ