اردوئے معلیٰ

نہ لبوں پہ آہ لاتے تو کچھ اور بات ہوتی

تہہِ غم بھی مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

مرے دل میں تم مکیں ہو رگِ جاں سے بھی قریں ہو

جو نظر میں بھی سماتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

مرے دل کی دھڑکنیں ہیں مرے گیت میرے نغمے

مرے غم کو تم بھی گاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

تری بے رخی سلامت ہمیں بھول جانے والے

تجھے ہم بھی بھول جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

وہی شاخِ گل حسیں ہے جو ہے بجلیوں کا مرکز

وہیں آشیاں بناتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

تھے نظر کے سامنے تو وہ نظر نواز جلوے

جو قدم نہ ڈگمگاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 

تری آرزو کی لذت ترے پاس آ کے کھو دی

تجھے پا کے بھی نہ پاتے تو کچھ اور بات ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات