نہ لب پر شکوہ و فریاد رکھنا

نہ لب پر شکوہ و فریاد رکھنا

نہ خوف جور و استبداد رکھنا

دلِ مضطر ظفرؔ یوں شاد رکھنا

سدا دِل میں خدا کی یاد رکھنا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں
مرا خدا رؤف ہے، مرا خدا رحیم ہے
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات