نہ مر سکے گا یہ اس بار بھی سکون کے ساتھ

نہ مر سکے گا یہ اس بار بھی سکون کے ساتھ

دسمبر آ کے ملایا ہے جس نے جون کے ساتھ

 

وہ گلستان کی صورت ہرے بھرے ہیں آج

جو پھول بوٹے بنائے تھے میں نے خون کے ساتھ

 

کہ دشت میں بھی اکیلا رہا میں ساری عمر

نہ چل سکی تری وحشت مرے جنون کے ساتھ

 

میں گھر میں ساتھ ہوں سب کے مگر اکیلا ہوں

مرا گزرتا ہے ٹائم خود اپنے فون کے ساتھ

 

کہ درد حد سے گزرتا ہے میرا جب بھی کبھی

لپٹ کے روتا ہوں طاہر کسی ستون کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ