نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے

نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے

فقط یہ اناؤں کی اِک جنگ ہے

 

اگر جھوٹ بولیں تو خوفِ فلک

اگر سچ کہیں تو زمیں تنگ ہے

 

محبت ہے اِک عہد کا نام اور

ہوس لہر ہے ، زہر ہے ، ڈنگ ہے

 

ترا حسن اِک عارضی رُوپ ہے

مرا عشق اِک دائمی رنگ ہے

 

تری سوچ کے مختلف ہیں خطوط

مرے سوچنے کا الگ ڈھنگ ہے

 

جو سوچا نہیں تھا وہی ہو گیا

میں حیران ہوں اور تو دنگ ہے

 

اگر دَو (۲) دِلوں میں نہ ہو فاصلہ

تو دِلّی بھی پھر ایک فرسنگ ہے

 

اُسے سوچ کر دیکھنا مرتضیٰ

کہ وہ شخص تجھ سے ہم آہنگ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں
خاک اُڑتی ہے رات بھر مجھ میں
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

اشتہارات