نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے

نہ میں موم ہوں اور نہ وہ سنگ ہے

فقط یہ اناؤں کی اِک جنگ ہے

 

اگر جھوٹ بولیں تو خوفِ فلک

اگر سچ کہیں تو زمیں تنگ ہے

 

محبت ہے اِک عہد کا نام اور

ہوس لہر ہے ، زہر ہے ، ڈنگ ہے

 

ترا حسن اِک عارضی رُوپ ہے

مرا عشق اِک دائمی رنگ ہے

 

تری سوچ کے مختلف ہیں خطوط

مرے سوچنے کا الگ ڈھنگ ہے

 

جو سوچا نہیں تھا وہی ہو گیا

میں حیران ہوں اور تو دنگ ہے

 

اگر دَو (۲) دِلوں میں نہ ہو فاصلہ

تو دِلّی بھی پھر ایک فرسنگ ہے

 

اُسے سوچ کر دیکھنا مرتضیٰ

کہ وہ شخص تجھ سے ہم آہنگ ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ