اردوئے معلیٰ

Search

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا

رہنما کوئی اگر تھا تو یہ رستہ اپنا

 

زندگی گزری تضادات سے لڑتے لڑتے

فیصلے سارے تھے اوروں کے، طریقہ اپنا

 

بے سلیقہ تو نہیں، بے سروسامان سہی

دست و بازو کو بنائیں گے وسیلہ اپنا

 

مان کرمشورے اپنوں کے اٹھایا ہے قدم

دیکھئے اب کیا نکلتا ہے نتیجہ اپنا

 

ڈر تو لگتا ہے بہت تیر گئ فردا سے

پیچھے ہٹنا بھی نہیں خیر وتیرہ اپنا

 

بادبانوں پہ بھروسے کا یہ نکلا انجام

آ گیا ہاتھ ہواؤں کے سفینہ اپنا

 

مشغلہ کسبِ ہنر پہلے کبھی ہوتا تھا

بیچنا علم وہنر اب ہے ذریعہ اپنا

 

مسلکِ کُل کو نہیں جانتے ہم کیا ہے ظہیرؔ

بات جو سچ ہے وہی بات عقیدہ اپنا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ