نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا

نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا

رہنما کوئی اگر تھا تو یہ رستہ اپنا

 

زندگی گزری تضادات سے لڑتے لڑتے

فیصلے سارے تھے اوروں کے، طریقہ اپنا

 

بے سلیقہ تو نہیں، بے سروسامان سہی

دست و بازو کو بنائیں گے وسیلہ اپنا

 

مان کرمشورے اپنوں کے اٹھایا ہے قدم

دیکھئے اب کیا نکلتا ہے نتیجہ اپنا

 

ڈر تو لگتا ہے بہت تیر گئ فردا سے

پیچھے ہٹنا بھی نہیں خیر وتیرہ اپنا

 

بادبانوں پہ بھروسے کا یہ نکلا انجام

آ گیا ہاتھ ہواؤں کے سفینہ اپنا

 

مشغلہ کسبِ ہنر پہلے کبھی ہوتا تھا

بیچنا علم وہنر اب ہے ذریعہ اپنا

 

مسلکِ کُل کو نہیں جانتے ہم کیا ہے ظہیرؔ

بات جو سچ ہے وہی بات عقیدہ اپنا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں 
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
یار کی دستک پہ بھی تُو نے یہ پُوچھا: کون ھے ؟
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا
الفاظ کے پردے میں اگر تُو نہیں نکلے
تُجھ سے دور آتے ہوئے جانا کہ یہ سب کیا ہے
چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں
زیادہ کٹھن ہے ترک ِ نظارہ کے کرب سے
شکستگی ہے مسلسل شکست سے پہلے