نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا

نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا

نظر سے پار کہیں دور سلسلہ دل کا

 

مرے دماغ نے مجھ کو جگا دیا لیکن

اُس ایک خواب میں چہرہ ہی رہ گیا دل کا

 

ایام تلخ ہیں مجھ کو سمجھ نہیں آتا

کہ درد کوئی بتائے گا ذائقہ دل کا

 

یہ رات کون مرے ساتھ جاگتا رہا ہے

یہ رات کس سے ہوا ہے مکالمہ دل کا

 

ہر ایک سمت عزاداریاں ہوئیں قیصر

کیا جو ہے میں نے جو برپا مسالمہ دل کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ