نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا

نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا

ہے دستورِ پارینہ بزمِ جہاں کا

 

کرے سامنا پھر اس ابرو کماں کا

یہ دیدہ تو دیکھیں دلِ نیم جاں کا

 

کبھی تو وہ ہو گا جفاؤں سے تائب

ہے اک واہمہ میرے حسنِ گماں کا

 

سرشکِ مژہ سے کب اندازۂ غم

کسے حال معلوم سوزِ نہاں کا

 

زمیں دوز ہو کر رہی برقِ سوزاں

پڑا صبر آخر مرے گلستاں کا

 

نہ مہکے ہیں گل ہی نہ چہکے عنادل

گماں ہے بہاروں پہ دورِ خزاں کا

 

سنا غم کے ماروں کا قصہ کبھی جب

لگا مجھ کو ٹکڑا مری داستاں کا

 

جو خود کٹ گیا رہبرِ کارواں سے

خدا ہی محافظ ہے اس کارواں کا

 

نہ پورا ہو ہرگز نظرؔ زندگی بھر

خسارہ کہ ہے لحظۂ رائیگاں کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر