اردوئے معلیٰ

Search

نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو

اک عشق ایسا کہ جو فسانوں سے مختلف ہو

 

زباں پکڑ کر جو دل کو بدلے ہو میری تسبیح

میں ایک دانہ جو سارے دانوں سے مختلف ہو

 

وہی پرندہ نہ اڑنے پایا جو چاہتا تھا

اڑان ایسی جو سب اڑانوں سے مختلف ہو

 

دکھاؤں سب کو اگر تو چھوڑے نشان ایسا

مرے بدن پر جو سب نشانوں سے مختلف ہو

 

میں ایسی ملکہ کا ہوں محافظ جو چاہتی تھی

جوان ایسا جو سب جوانوں سے مختلف ہو

 

ہمارے گھر میں ہوں خواب گاہیں ہی خواب گاہیں

بناؤ نقشہ جو سب مکانوں سے مختلف ہو

 

تھی ماں کی لوری بھی فجر کی اک اذان جیسی

اذان بھی وہ جو سب اذانوں سے مختلف ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ