اردوئے معلیٰ

نیچی نظریں کئے دربار میں ہم آتے ہیں

غم کے مارے ہیں لئے سینکڑوں غم آتے ہیں

 

غمزدہ لوگ ہیں بادیدۂ نم آتے ہیں

لے کے ٹوٹے ہوئے دل ہی کو توہم آتے ہیں

 

ہم خطا کار ہیں اور آپ کا در ہے اقدس

شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں

 

جب مصیبت میں کبھی گھر کے پکاروں ان کو

کان میں آئے یہ آواز کہ ہم آتے ہیں

 

ہم کو سرکار بچا لیجے کہ ظالم انساں

ہم پہ کرنے کے لئے مشقِ ستم آتے ہیں

 

کچھ سلیقہ نہیں ہم کو ہی طلب کا ورنہ

وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں

 

ایک دریا سا فداؔ بہٍتا ہے چاروں جانب

جوش میں جب بھی کبھی دیدۂ نم آتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات