اردوئے معلیٰ

نے برسرِ افلاک نہ بر روئے زمیں ہے

نے برسرِ افلاک نہ بر روئے زمیں ہے

مثل شہِ لولاک کسی جا بھی نہیں ہے

 

یوں تو رُخِ مہتاب بھی حد درجہ حسیں ہے

اس رخ سے تقابل ہو تو پھر کچھ بھی نہیں ہے

 

وہ تاجِ نبوّت کا درخشندہ نگیں ہے

وہ جان ہے ایمان کی وہ روحِ یقیں ہے

 

انساں کے تخیل سے پرے عرشِ بریں ہے

لیکن شبِ اسرا میں وہ بالذّات وہیں ہے

 

بستر ہے زمیں پر تو غذا نانِ جویں ہے

ہو کر شہِ کونین بھی وہ خاک نشیں ہے

 

جو تابعِ فرمانِ شہِ دینِ مبیں ہے

اللہ کی رحمت سے وہ حد درجہ قریں ہے

 

جو آپ کو سمجھے کہ نہیں ختمِ رُسُل آپ

ظالم ہے، وہ کافر ہے، وہ مردود و لعیں ہے

 

اس خُلق کی تعریف در امکانِ بشر کب

جس خُلق کی تحسین بہ قرآنِ مبیں ہے

 

معیارِ صداقت ہے وہ معیارِ امانت

دُشمن کی نگاہوں میں بھی صادق ہے امیں ہے

 

اللہ کے نزدیک وہی سب ہیں سر افراز

جس جس کی جھکی در پہ تِرے لوحِ جبیں ہے

 

اطرافِ زمانہ سے چلی دیکھنے دنیا

کس درجہ کشش رکھتی یہ طیبہ کی زمیں ہے

 

سب دین مٹے دہر سے تا حشر نظرؔ اب

تابندہ و محفوظ فقط آپ کا دیں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ