اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

واحد ہے، بے نیاز و بے اولاد و آل ہے

واحد ہے، بے نیاز و بے اولاد و آل ہے

تو ربِ کائنات ہے اور ذوالجلال ہے

 

ہر شے میں اس جہاں کی جو حسنِ و جمال ہے

تیری ہی صنعتوں کا یہ روشن کمال ہے

 

احسن ہے کون تیرے سوا خالقین میں

کاریگری میں تیری بڑا اعتدال ہے

 

سیارے سارے رہتے ہیں اپنی حدود میں

شمسی و قمری نظم ترا بے مثال ہے

 

اک دوسرے کو لے نہیں سکتے گرفت میں

سیّارگان میں کہاں اتنی مجال ہے

 

قائم ہے تیرے حکم سے ہی ان کی گردشیں

ورنہ یہ کام اصل میں امرِ محال ہے

 

یہ التجا ہے حسبِ ضرورت ہی دے اسے

ساحل کا تیرے آگے جو دستِ سوال ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہر جگہ ہر نظر دیکھ سکتی نہیں ، تو حیات آفریں تو حیات آفریں
بے کیف ہے حیات ترے ذکر کے بغیر
مرے مولا کہتا رہوں سدا , تری شان جل جلالہ
میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں