واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں

واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں

انسان کیسا بھی ہو مگر معتبر نہیں

 

جس وقت پڑھ لیا ہے نبی پر درود بھی

میری زباں کبھی بھی رہی بے اثر نہیں

 

گستاخ جو نبی کا ہوا جل کے مر گیا

جلنا نصیب اس کا ہے اس سے مفر نہیں

 

نعتِ نبی کی بخش دے توفیق اے خدا

جز اس کے کوئی خواہشِ فن و ہنر نہیں

 

لب پر سجا کے ان کی ثنا رکھ تو ہر گھڑی

آجائے موت کب تجھے کوئی خبر نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات