اردوئے معلیٰ

واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں

واصف نبی کا اپنے یہاں جو بشر نہیں

انسان کیسا بھی ہو مگر معتبر نہیں

 

جس وقت پڑھ لیا ہے نبی پر درود بھی

میری زباں کبھی بھی رہی بے اثر نہیں

 

گستاخ جو نبی کا ہوا جل کے مر گیا

جلنا نصیب اس کا ہے اس سے مفر نہیں

 

نعتِ نبی کی بخش دے توفیق اے خدا

جز اس کے کوئی خواہشِ فن و ہنر نہیں

 

لب پر سجا کے ان کی ثنا رکھ تو ہر گھڑی

آجائے موت کب تجھے کوئی خبر نہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ