اردوئے معلیٰ

واعظ سے دل بُرا نہ کرو ، پارسا ہے یہ

واعظ سے دل بُرا نہ کرو ، پارسا ہے یہ

بس لذتِ حیات سے ناآشنا ہے یہ

 

صحرائے بازگشت میں اپنی ہی چاپ سُن

اے جُرمِ آرزو تری شاید سزا ہے یہ

 

گلچین و باغباں نے بھی آہٹ سنی مگر

کلیاں پکار اٹھیں کہ بادِ صبا ہے یہ

 

دنیا میں دامنوں کی کمی ، کیا مذاق ہے

چپکے سے آنسوؤں نے کہا ، تجربہ ہے یہ

 

پیمانے سانس روکے ہیں ہونٹوں کی بھیڑ میں

کچھ منہ سے بولتی نہیں کیسی گھٹا ہے یہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ