اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

واعظ نے اپنے زورِ بیاں سے بدل دیا

واعظ نے اپنے زورِ بیاں سے بدل دیا

کتنی حقیقتوں کو گماں سے بدل دیا

 

ہونا تھا میرا واقعہ آغاز جس جگہ

قصّے کو قصّہ خواں نے وہاں سے بدل دیا

 

ہے شرطِ جوئے شیر وہی، وقت نے مگر

تیشے کو جیسے کوہِ گراں سے بدل دیا

 

اب مل بھی جائیں یار پرانے تو کیا خبر

کس کس کو زندگی نے کہاں سے بدل دیا

 

بیدادِ عشق ہے کہ یہ آزارِ آگہی

سینے میں دل کو دردِ نہاں سے بدل دیا

 

اس بار دشتِ جاں سے یوں گزری ہوائے درد

موجِ لہو کو ریگِ رواں سے بدل دیا

 

آنکھوں میں شامِ ہجر کا ہر عکسِ منجمد

مل کر کسی نے اشکِ رواں سے بدل دیا

 

احساسِ رائگانیِ جذبِ دروں نہ پوچھ

میں نے سکوتِ غم کو فغاں سے بدل دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا