اردوئے معلیٰ

واقف جہانِ غم سے نہ ہو ، اپنے غم سے ہو

ہونا ہے پائمال تو اپنے قدم سے ہو

 

اب بھی اجل رسید جنوں منتظر ہیں ہم

جیسے کہ لوٹنا ترا ممکن عدم سے ہو

 

شوقِ تماش بین ، کوئی اور نام چُن

شاید کہ اب کی بار تماشہ نہ ہم سے ہو

 

آنا ہے روبرو تو کئی مرحلوں میں آ

سورج کا سامنا ہے کہاں ایک دم سے ہو

 

خواہش کی انتہا کا تقاضہ یہی ہے اب

اب کے بیان ہو تو فقط چشمِ نم سے ہو

 

ائے کاش روئیدادِ تخیل کہ مِن و عَن

تحریر ایک بار ہمارے قلم سے ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات