واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا

واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا

اے ذاتِ رسالت رُخ کے ترے انوار کا عالم کیا ہوگا

 

جب عام کرم سرکار کا ہے بے دینوں پر گستاخوں پر

اللہ غنی شیداوؔں پر پھر پیار کا عالم کیا ہوگا

 

اے غیرتِ یوسف بن دیکھے جب تجھ کو نگائیں ڈھونڈتی ہیں

اکثر یہ خیال آجاتا ہے دیدار کا عالم کیا ہوگا

 

جب اُن کے غلاموں کے در پر جھکتی ہے شہنشاہوں کی جبیں

یہ سوچتا ہوں پھر آقا کے دربار کا عالم کیا ہوگا

 

جب دستِ نگر ہی آقا کے بھرتے ہیں زمانے کی جھولی

ایماں سے کہہ دیں اہلِ جہاں مختار کا عالم کیا ہوگا

 

جو عشقِ حبیب خالق میں جلتے ہیں سدا پروانہ صفت

اے اہل نظر ان سینوں میں انوار کا عالم کیا ہوگا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
سلام اے محمد! ، اے احمد! ، اے حامد!​
مرے خدا کو جو پیارا ہے یارسولؐ اللہ
ہے حبیب رب کا مرا نبیؐ وہ جہانِ جشن میں روشنی
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

اشتہارات