اردوئے معلیٰ

وجود اُس کا ہے مشک و گلاب سے ظاہر

وجود اُس کا ہے مشک و گلاب سے ظاہر

یہ جگمگائے ہوئے ماہتاب سے ظاہر

 

جو اُس کے حکم سے روشن ازل سے ہے اب تک

حریفِ ظلمتِ شب، آفتاب سے ظاہر

 

نسیم ، برق ، شرر ، بادِ تند ، قوسِ قزح

شفق ، نجوم ، خلا و سراب سے ظاہر

 

بہشت و دوزخ و قہر و جلال ، حور و ملک

جزا ، سزا و ثواب و عذاب سے ظاہر

 

منی و علقہ و مضغہ کی پرورش سے عیاں

ضعیفی ، طفلی ، و عہدِ شباب سے ظاہر

 

ہر ایک لفظ میں کونین جذب ہے جس کے

اُسی مقدس و اطہر کتاب سے ظاہر

 

یقین آئے نہ اِن پر تو ہو گا وہ ساحلؔ

بروزِ حشر حساب و کتاب سے ظاہر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ