اردوئے معلیٰ

Search

وحشتوں کی سبیل ہوتے تھے

دکھ کے منظر طویل ہوتے تھے

 

ہجر چابک تھا پشت پہ پڑتا

اور چابک میں کیل ہوتے تھے

 

لالیاں کھا گیا مری یہ دکھ

کب یوں آنکھوں میں نیل ہوتے تھے

 

منزلوں کا پتہ دیا اس کو

ہم فقط سنگ میل ہوتے تھے

 

خواہشیں تھیں کثیر بچوں کی

اور وسائل قلیل ہوتے تھے

 

دل تو کرتا تھا موت آ جائے

عشق میں جب ذلیل ہوتے تھے

 

بحث کرنا تو میری فطرت ہے

میرے بابا وکیل ہوتے تھے

 

دشت لگتے تھے ظاہراً ورنہ

ہم بھی اندر سے جھیل ہوتے تھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ