اردوئے معلیٰ

وحشتِ بے پناہ سے بڑھ کر

آرزو کیا ہے آہ سے بڑھ کر

 

چشمِ صحرا نورد میں تم تھے

خوابِ آب و گیاہ سے بڑھ کر

 

میں ترے وار کارگر کرنے

آ رہا ہوں سپاہ سے بڑھ کر

 

آن پہنچا فریبِ منزل تک

واہمہ ہائے راہ سے بڑھ کر

 

میں تری خامشی کو سنتا تھا

دیکھتا تھا نگاہ سے بڑھ کر

 

کھو گیا جاگتے زمانوں میں

میں تری خوابگاہ سے بڑھ کر

 

تیری لغزش کی لاکھ تاویلیں

کچھ نہیں میں گناہ سے بڑھ کر

 

کرہِ آسمانِ دل پہ کبھی

لوگ تھے مہر و ماہ سے بڑھ کر

 

انفرادی مقابلوں میں ہی دل

کٹ مرا تھا سپاہ سے بڑھ کر

 

حالتِ دل بیان کر پاؤں

لفظ ڈھونڈوں تباہ سے بڑھ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات