اردوئے معلیٰ

 

وحشی کو انسان بنایا میرے کملی والے نے

روحِ دل و ایمان بنایا میرے کملی والے نے

 

حشر کے دن کیا کیا نہ گذرتی ایک تبسم کے صدقے

مشکل کو آسان بنایا میرے کملی والے نے

 

دل میں مدینے کی خواہش بھی ان کے کرم کا صدقہ ہے

دل کو میرے ارمان بنایا میرے کملی والے نے

 

عرشِ بریں کے گوشوں پر اِک شب یہ فرشتے کہتے تھے

جلووں کو حیران بنایا میرے کملی والے نے

 

قلب حسینی کہتا تھا واللہ کسی موقع پہ کہیں

جان کو میری جان بنایا میرے کملی والے نے

 

دے کے فقیروں کے ہاتھوں میں دونوں جہاں کی سوغاتیں

بوذر اور عثمان بنایا میرے کملی والے نے

 

داتا، فرید اور خواجہ میں یہ کس کی ضیا باریاں ہیں

کس نے انہیں ذیشان بنایا میرے کملی والے نے

 

اس سے بڑا احسان صبیحؔ خاک نشیں پر کیا ہوگا

پیرو حسّان بنایا میرے کملی والے نے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات